Negligence of doctors and attendants

0
213

کوہاٹ کی رہنے والی نائیلہ کی بیٹی کی ولادت تین ماہ قبل آپریشن کے ذریعے ہوئی تھی لیکن تین مہینے گزرنے کے باوجود آج بھی نائیلہ کو تکلیف کا سامنا ہے جس کی وجہ آپریشن کرنے والی ڈاکٹر اور عملہ کی لاپرواہی تھی۔ نائیلہ کا کہنا ہے کہ ڈیلیوری کے چند دن بعد اسے محسوس ہو رہا تھا کہ اس سے بد بو اٹھتی ہے، جس میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا تھا۔ جس کی وجوہات کا کئی ڈاکٹروں کے پاس جانے سے بھی پتہ نہیں چل سکا۔ باالاخر ایک ماہر اور تجربہ کار ڈاکٹر کے پاس جانے سے اسے پتا چلا کہ ڈیلیوری کے وقت آپریشن کرنے والی ڈاکٹر اور عملہ کی لا پرواہی کی وجہ سے کاٹن کا ایک پورا پیک اس کے اندر  رہ گیا تھا۔

نائیلہ کہتی ہیں کہ وہ دن اس کے لئے کسی غذاب سے کم نہ تھے کیونکہ ایک تو اس کے پیٹ میں تکلیف اور درد رہتا تھا تو دوسری جانب وہ بد بو کی وجہ سے کسی کے قریب نہیں جا سکتی تھی اور جب اس کے جسم سے کاٹن نکالا گیا تو اس کے رحم کے قریب زخم بھرنے کی بجائے بڑھ چکا تھا جس کی وجہ سے وہ آج بھی تکلیف میں مبتلا رہتی ہے۔ اور یہی وجہ ہے جس کے سبب اسے ڈاکٹروں کے چکر لگانے پڑتے ہیں۔

یہ صرف نائیلہ کا واقعہ نہیں ہے بلکہ ایسی سینکڑوں خواتین ہوں گی جو کہ ڈاکٹروں کی اس لا پرواہی کا شکار ہو چکی ہوں گی۔ اور آئے روز اخبارات میں اسی نوعیت کی خبریں دیکھنے میں آتی ہیں۔ اس حوالے سے جب پشاور کی ایک ڈاکٹر ثمینہ سے پوچھا گیا تو انہوں نے بتایا کہ اکثر اوقات انہیں ایمرجنسی میں آپریشن کرنا پڑ جاتا ہے جس کی وجہ سے اکثر کا ٹن کے کئی پیکس استعمال ہوتے ہیں اور آپریشن کے دوران کئی پیکٹ پڑے ہوتے ہیں جو مریضہ کے زخم میں رکھ دیئے جاتے ہیں۔ جس کے گننے میں کبھی کبھار  غلطی اور بے احتیاطی سے کاٹن مریضہ کے زخم کے اندر سی دیا جاتا ہے۔

ڈاکٹر ثمینہ کا کہنا ہے کہ اگر کاٹن یا اسطرح کی کوئی دوسری چیز مریضہ کے پیٹ کے اندر رہ جائے تو اس سے جان تو نہیں جاتی لیکن مریضہ کا زخم پھر ٹھیک نہیں ہوتا، جبکہ زخم ٹھیک ہونے کے بجائے مزید بڑھ جاتا ہے اور اس سے مختلف قسم کے انفکشنز ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح مریضہ کی طبعیت ٹھیک نہیں رہتی اور اسے درد کا احساس بھی ہوتا ہے۔

ڈاکٹر ثمینہ نے  مزید کہا کہ کاٹن اندر رہ جانے کی صورت میں مریضہ کا الٹرا سائونڈ کیا جاتا ہے جس سے پتا چلتا ہے کہ مسئلے کی نوعیت کیا ہے- جس کے بعد  مریضہ کے زخم کو دوبارہ کھول دیا جاتا ہے۔

اس طرح کے واقعات کی روک تھام کے حوالے سے ڈاکٹر ثمینہ کا کہنا ہے کہ ایمرجنسی کے دوران ایک سینئر ڈاکٹر کے ساتھ دو تین اسسٹنٹ یا جونیئر ڈاکٹر کا ہونا لازمی ہے جس میں سے ایک کا کام خصوصی طور پر کاٹن پیکس کا گننا ہونا چاہیئے۔  جبکہ ان میں سے سب کو ہی الرٹ رہنا چاہیئے کیونکہ آپریشن کے ذریعے ڈیلیوری کے وقت بلیڈنگ پوائینٹس بہت زیادہ ہوتے ہیں جس میں اس طرح کے واقعات کا پیش  آنا عین ممکن ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر ایسا کام غلطی میں بھی ہو جائے تو یہ انتہائی غیر زمہ دارانہ کام ہے جس پر ڈاکٹر کے خلاف کاروائی ہونی چاہیئے۔

NO COMMENTS

LEAVE A REPLY