Down Syndrome

0
407

 ہمارے ارگرد اکثر اوقات ایسے بچے دیکھنے کو ملینگے جن کی منگولین طرز کی شکل و صورت اور جسمانی ساخت تقریبا ایک جیسی ہوگی چاہے ان کا تعلق ایک خاندان یا ایک علاقے سے ہو یا نہ ہو ۔ یہ بچے ڈاون سینڈروم نامی ایک بیماری کا شکار ہوتے ہیں۔  ڈاون سینڈروم بچوں میں پیدائشی طور پر دماغی خلل کو کہتے ہیں جو کہ ایک جینیٹک حالت ہے اور اس میں بچہ جسمانی اور دماغی طور پر نارمل بچوں کے جیسی ترقی نہیں کرتا۔

ڈاون سینڈروم سے متاثرہ بچوں کے کروموسومز میں نارمل چھیالیس کی بجائے 47 کروموسومز ہوتے ہیں جس کو طبی اصطلاح میں ٹرائی سومی21 کہا جاتا ہے، جو کہ نان ڈسجنکشن نامی  خلیوں کی تقسیم میں غلطی کی وجہ سے ہوتا ہے تاہم یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس کی وجوہات کیا ہیں؟ جبکہ اس  کو رنگ و نسل، علاقے یا موسم کے ساتھ نسبت بھی نہیں دی جا سکتی۔ پشاور کی مشہور گائنا کالوجسٹ ڈاکٹر ماہرہ طلعت کا کہنا ہے کہ اس بیماری کا نہ  تو کوئی علاج ہے اور نہ ہی اس کےلئے حفاظتی تدابیر کی جا سکتی ہیں البتہ اس کی تشخیص حمل کے نویں سے گیارہویں ھفتے تک ہو سکتی ہے جس میں اکثر حساس خواتین اسقاط حمل کر لیتی ہیں تاہم اس کےلئے کیے جانے والے ٹیسٹوں کا خرچ ہر کوئی برداشت نہیں کر سکتا۔

ڈاکٹر ماہر طلعت کا کہنا ہے کہ ہر 792 پیدا ہونے والے بچوں میں ایک بچہ ڈائون سینڈروم کا شکار ہو جاتا ہے- جبکہ خواتین کی عمر جیسے جیسے بڑھتی جاتی ہے ویسے ویسے ڈائون سینڈروم کا خدشہ بھی بڑھ جاتا ہے- جسطرح کہ خواتین میں تیس سال کے دوران 1600میں سے ایک بچہ ڈائون سینڈروم کا شکار ہوتا ہے- اسطرح 30 سے چالیس کے درمیان ایک ہزار بچوں میں اور 45 سال یا اس سے زیادہ عمر کی 30 خواتین میں سے ایک ڈائون سینڈروم سے متاثرہ بچے کو جنم دیگی۔

طبی ماہرین کے مطابق ڈاون سینڈروم سے متاثرہ بچوں میں متعدد طبی نقص پائے جاتے ہیں- جن میں دل کا عارضہ، سانس کی بیماریاں، سماعت کی کمزوری اور چائلڈ ہوڈ لیوکیمیا شامل ہیں- تاہم یہ تمام بیماریاں قابل علاج ہیں اسلیئے اکثر ڈاون سینڈروم کے مریض ایک صحت مند ذندگی گزارتے ہیں۔ ڈاون سینڈروم سے متاثرہ اکثر بچے سکول میں جاکر پڑھ سکتے ہیں، کام کر سکتے ہیں اور اسی طرح معاشرہ میں ایک اچھی زندگی گزارنے کے قابل ہوتے ہیں- تاہم ایک مثبت ذندگی گزارنے اور انہیں کارآمد شہری بنانے کی غرض سے ان کےلئے خصوصی تعلیمی پروگرام، ایک اچھا ماحول اور صحت کا اچھا خیال رکھنا لازمی ہے۔

ڈاون سینڈروم کے اکثر بچے حاملہ کی زیادہ عمر ہونے کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں اس لیئے ڈاکٹر ماہرہ کا کہنا ہے کہ خواتین کو 40 سال کے بعد بچے پیدا نہیں کرنے چاہیئے کیوں کہ عمر بڑھ جانے کی وجہ سے ہارمونز کی تعداد کم ہونے لگتی ہے جس کی وجہ سے کروموسومل ابنارمیلیٹی آجاتی ہے ان کی ہڈیاں کمزور ہو جاتی ہے ان کے مسل لوز ہونے لگتے ہیں اور اکثر اوقات ان کے بچے آپریشن کے ذریعےپیدا ہو جاتے ہیں۔ اور اس وجہ سے ڈاون سینڈروم بچوں کے پیدا ہونے کے چانسز بہت بڑھ جاتے ہیں –

 ڈاکٹر ماہرہ طلعت کا کہنا ہے کہ ڈاون سینڈروم کا مسئلہ طبی طور پر اتنا سیریس مسئلہ نہیں ہوتا جبکہ ایک جانب اگر ان بچوں میں کمی اور خامیاں پائی جاتی ہیں تو دوسری جانب ان میں اکثر بچے ایسے ہوتے ہیں جن میں اوسط بچوں سے کئی گنا زیادہ ٹیلنٹ اور ذہنی صلاحیتیں پائی جاتی ہیں۔ تاہم ان پر توجہ دینا اور ان کا خیال رکھنا لازمی ہے۔

NO COMMENTS

LEAVE A REPLY