Defects in children by birth

0
244

اولاد کی پیدائش تمام والدین کی اولین خواہش ہوتی ہےلیکن جب اولاد معذور پیدا ہو تو پھر اکثر اوقات یہی اولاد والدین کے دکھوں میں اضافے کا سبب بن جاتی ہے ۔  ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان میں پچاس لاکھ  معذور افراد میں سے 43.4 فی صد معذور بچے ہیں ۔ جن میں زیادہ تر تعداد ان بچوں کی ہے جو پیدائشی طور پر معذور ہوتے ہیں۔ خیبر ٹٰیچنگ ہسپتال میں ٹٰی ایم او کی حیثیت سے کام کرنے والی گائنا کالوجسٹ ڈاکٹر ثمینہ کا کہنا ہے کہ ایک مہینے کے دوران ان کے ہسپتال میں ہر ہفتے دو بچے معذور پیدا ہوتے ہیں۔ جن میں زیادہ تر بچے زہنی معذوری میں مبتلا ہوتے ہیں۔

 ڈاکٹر ثمینہ کا کہنا ہےکہ ہمارے معاشرے میں موجود گونگے بہرے افراد میں اکثر کی بیماریوں کا تعلق موروثیت سے ہوتا ہے۔  ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ  ایک ہی خاندان میں مسلسل شادیاں کرنے سے جنم لینے والے بچوں میں یہ معذوریاں اکثر ظاہر ہوتی ہیں ۔ ڈاکٹر ثمینہ کہتی ہیں کہ پیدائش کے فورا بعد بچوں میں گونگا پن ظاہر نہیں ہوتا اور نہ ہی کسی قسم کے ٹیسٹ کے ذریعے معلوم کیا جا سکتا ہے۔ تین مہینے کی عمر میں بچے آواز پر رد عمل ظاہر کرنا شروع کر دیتے ہیں لیکن اگر ایسا نہ ہو تو اس سے سننے کی حس میں مسئلے کا خدشہ پیدا ہوتا ہے۔

دیگر معذوریوں کے ساتھ ساتھ بچوں میں پیدائشی نا بینا پن بھی عام ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا بھر میں انتالیس ملین لوگ نابینا ہیں جن میں بچوں کی تعداد تقریبا 19ملین ہیں جبکہ پاکستان میں ان کی تعداد تقریبا دو ملین ہے-

ذہنی پسماندگی سے مراد ذہانت کی ایک خاص حد سے کمی یا سیکھنے کےعمل کا سست ہونا اور صلاحیتوں کی کمی ذہنی پسماندگی کی علامات ہیں- جس کے علامات ابتدائی عمر سے ہی ظاہر ہونا شروع ہو جاتی ہیں- ذہنی پسماندگی کی وجوہات کے بارے میں  ڈاکٹر ثمینہ کا کہنا ہے کہ اس بیماری کے پیچھے بہت سی وجوہات ہیں جن میں موروثیت، حمل کے دوران دماغی نشونما متاثر کرنے والے مسائل، دوران زچگی پیچیدگیاں، اکسیجن کی فراہمی رک جانا یا وقت سے پہلے پیدائش جیسی وجوہات شامل ہیں۔ ذہنی پسماندگی کی علامات میں نارمل بچے کی بنسبت متاثرہ بچے دیر سے بیٹھنا شروع کرتے ہیں، اسی طرح پیٹ یا گھٹنوں کے بل اور کھڑے ہو کر دیر سے چلنا، دیر سے بولنا یا بولنے میں دشواری، سیکھنے میں سست ہونا، یادداشت اور رویوں میں نارمل نہ ہونا اس معذوری کی علامات ہیں۔

کسی بھی معذوری کے ساتھ زندگی گزارنا والدین اور بچے دونوں کےلئے انتہائی صبر آزما ہوتا ہے- تاہم ایک صحت مند ماں ہی ایک صحت مند بچے کو جنم دے سکتی ہے۔ اس حوالے سے ڈاکٹر ثمینہ کا کہنا ہے کہ صحت مند  بچے کو جنم دینے کےلئے حاملہ کو چاہیئے کہ  اپنی غذایئت کا خاص خیال رکھے، فولک ایسڈ کا استعمال تیسرے مہینے سے شروع کرے،  ماہر اور مستند ڈاکٹر سے معمول کا چیک اپ جاری رکھے اور ڈاکٹروں کے مشورے کے مطابق احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل کرے جس سے بیشتر پیدائشی معذوریوں سے بچا جا سکتا ہے۔

NO COMMENTS

LEAVE A REPLY