پہلی بار کا حمل

0
617

پہلی بار حمل کے مراحل سے گزرنا تقریبا ہر ایک خاتون کےلئے ایک تکلیف دہ عمل ہوتا ہے- جس میں اگر ایک طرف انہیں مختلف تکالیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو دوسری جانب وہ متعدد جسمانی تبدیلیوں کا شکار بھی ہو جاتی ہیں- پشاور کی ایک ماہر گائنا کالوجسٹ ڈاکٹر بشریٰ کا کہنا ہے کہ ہارمونل تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ پہلی بار حاملہ بننے والی خاتون کو جسمانی تکلیفوں کے ساتھ نفسیاتی طور بھی مشکلات در پیش ہوتی ہیں۔ جس کو دیگر خواتین کی بنسبت بہترین خوراک او سپلیمنٹس کی ضرورت پڑتی ہے۔

ڈاکٹر بشٰریٰ کا کہنا ہے کہ پہلی بار پریگنینسی کے دوران  حاملہ خاتون نا تجربه کار ہوتی ہے اور اسے اپنی جسمانی تبدیلیوں کے بارے میں اتنی اگاہی نہیں ہوتی جس کی وجہ سے وہ اکثر نفسیاتی طور پر ڈپریشن کا شکار رہتی ہے جبکہ پختون معاشرے میں خاندان اس حد تک مددگار نہیں ہوتے کہ ان کو باقاعدہ ڈاکٹر کے پاس چیک کےلئے لے جانے کے ساتھ ساتھ  نفسیاتی طور پر بھی ان کے لیے مددگارثابت   ہوں۔ باقاعدہ وزٹس کے ساتھ حاملہ کو نارمل حالت میں بھی ہر چھ ہفتے کے بعد ڈاکٹر کے پاس لے جانے اور مناسب غزاییئت کی ضرورت ہوتی ہے۔

  پہلے حمل کے دوران پیش آنے والی مشکلات کے حوالے سے ڈاکٹر بشریٰ نے آئی پی آر کو بتایا کہ فرسٹ ڈیلیوری میں بدن اس قابل نہیں ہوتا کہ بلکل سیف (محفوظ) ڈیلیوری کر سکے کیونکہ جسم تنگ ہوتا ہے جس کی وجہ سے اکثر بچہ ڈیلیوری کے وقت پھنس جاتا ہے اور بچے کے گلے میں پھندا سا بن جاتا ہے ۔ جس صورت میں سٹیچنگ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے جو کہ حاملہ کےلئے ایک تکلیف دہ عمل ہوتا ہے۔ جبکہ دیہی علاقوں میں اکثر دائی غیر تعلیم یافتہ ہوتی ہے جو کہ ان مشکلات میں مہارت نہیں رکھتی۔ جس سے خاتون کےلئے تکلیف ناقابل برداشت ہوتی ہے اور اس دوران اموات کا زیادہ خدشہ ہوتا ہے۔

اگرچہ پہلے حمل کے دوران خواتین کی اموات کی کوئی واضح شرح سامنے نہیں آئی ہے لیکن پیشاور میں 35 سال سے پریکٹس کرنے والی ماہر گائنا کالوجسٹ ڈاکٹر مریم کا کہنا ہے کہ زچگی کے دوران وفات پا جانے والی خواتین میں پہلے حمل کے دوران وفات پانے والی خواتین کی شرح ستر فیصد ہے جس کی وجوہات تربیتیافتہ دائئ کی عدم موجودگی، مناسب خوراک کی عدم دستیابی، ہسپتالوں سے دوری، گھروں کے اندر پیدائش، یا مٹرنٹی اور بنیادی مراکز صحت میں مناسب انتظامات کی عدم موجودگی ہے۔

ڈاکٹر مریم کا کہنا ہے کہ اگر ڈیلیوری نارمل طریقے سے ہو جائے اور بچہ بھی تندرست ہو اور اس صورت میں بچے اور حاملہ دونوں کی صفائی اور خوراک کا خاص خیال نہ رکھا جائے تو یہ بھی ماں اور بچے دونوں کےلئے جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔ کیوںکہ اس سے متعدد انفیکشنز ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔

پہلے حمل کے دوران اختیار کرنے والی احتیاطی تدابیر کے حوالے سے ڈاکٹر مریم کا کہنا ہے کہ سب سے اہم غزائیت اور خون کی کمی دور کرنے کےلئے فولک ایسٖڈ کی گولیوں کا استعمال ہے۔ اس کے علاوہ روٹین کے مطابق ڈاکٹر یا تجربہ کار مڈوائف سے معائینہ، میٹرنٹی ہوم یا سہولیات سے آراستہ ہسپتال میں ڈیلیوری، آرام کا خصوصی خیال رکھنا اور زہنی سکون و حوصلہ افزائی ماں اور بچے دونوں کو موت سے بچا سکتے ہیں۔

NO COMMENTS

LEAVE A REPLY