عوام کی آگاہی کے لئے منفرد تربیتی پروگرام

0
347

عوام کی فرسودہ سوچ اور روایات کو بدلنے اور مثبت سوچ اپنانے کے لئے خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت اور بین الاقوامی تنظیم رٹگرز کے باہمی تعاون سے ضلع نوشہرہ اور ہری پور کے مختلف علاقوں میں ایک منفرد نوعیت کے تربیتی پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔ اس پروگرام میں علاقے کے بزرگ اور نوجوانوں کے علاوہ خواتین نے بھی ایک چھت تلے بیٹھ کر معاشرے کی بہتری اور فرسودہ سوچ اور روایات کو ختم کرنے پر بحث کی۔ اس پروگرام میں پشتون معاشرے میں زچگی کی   پیچیدگیوں، لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیوں کو نظرانداز کرنا اور بزگوں کے ساتھ روابط جیسے مسائل کو کھل کر بیان کیا گیا۔

پروگرام میں بطور تربیت کنندہ فرائض سرانجام دینے والی نوشہرہ کی باسی سیمہ بابر کہتی ہیں کہ تمام لوگوں نے اس تربیتی پروگرام میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا، اس میں زیربحث تمام مسائل پرقابو پانے کی حامی بھی بھری۔ وہ مزید بتاتی ہیں: ”شروع میں تو کچھ لوگ لاعلمی کی وجہ سے اس پروگرام سے ذیادہ مطمئن نہیں تھے، تاہم سمجھانے کے بعد انہوں نہ صرف دلچسپی کا اظہار کیا بلکہ ہرروز اپنے ساتھ نئے لوگ بھی ان تربیتی پرگراموں میں لاتے رہے، جوکہ میرے خیال میں ہماری ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔“

سیمہ بابر کے مطابق پشتون معاشرے میں زچگی کے دوران خواتین کے پوشیدہ امراض کی طرف ذیادہ توجہ نہیں دی جاتی جس کی وجہ سے اکثر خواتین مختلف گمبھیر عارضوں میں مبتلا ہوجاتی ہیں۔ ان کے بقول زچگی کے دوران خواتین کی اموات کی شرح میں اضافے کی ایک بڑی وجہ یہ ہوسکتی ہے۔

اس پروگرا م کی شروعات میں دو تربیت کنندوں کا انتخاب کیا گیا جنہوں نے8 مرد و خواتین معاون کاروں اور 48 مرد و خواتین ماھرین مکالمہ کو تربیت دی، جن میں برابر طو ر پر جوان اور بزرگوں کا تناسب رکھا گیا۔ یہ لوگ اپنے علاقے کے مکینوں کی سوچ میں تبدیلی اور بہتری کے لئے جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ضلع نوشہرہ کے علاقے تاروجبہ میں تربیتی پروگراموں میں بطور معاون کار کام کرنے والی کومل خان کا کہنا ہے کہ تربیت کے دوران ان کو سکھایا گیا کہ وہ کس طرح خواتین اور خاص طور پر بزرگوں کو اس بات پر آمادہ کریں کہ بچیوں کی تعلیم اور حاملہ خواتین کا خیال رکھنا ایک صحت مند معاشرے کے لئے کس قدر ضروری ہے۔ وہ مزید بتاتی ہیں: ”مجھ میں لوگوں کے سامنے بات کرنے کی بالکل بھی ہمت نہیں تھی- لیکن ہمارے ٹرینر ز نے ہمیں لوگوں تک اپنی بات پہنچانے کا طریقہ سکھایا- اب میں کسی بھی پلیٹ فارم پر خواتین کی بھلائی کے لئے آواز اٹھاسکتی ہوں۔“

کومل خان کی طرح ہری پور کے علاقے سٹی فور کی بائیس سالہ کائنات بھی اب اس قابل ہے کہ اپنے علاقے کے مکینوں کو اس بات پر آمادہ کرے کہ بڑوں کے ساتھ کس طرح پیش آنا چاہیئے اور لڑکیوں کو لڑکوں کے مقابلے میں نظرانداز کرنا کس قدر نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔

کائنات بتاتی ہیں کہ تربیتی پروگرام کے دوران ان کو اس بات کا شدت سے احساس ہوا کہ جن مسائل پر تربیت جاری ہے ان میں ذیادہ تر خامیاں خود ان کے گھر اور خاندان میں موجود ہیں تاہم یہ لوگ اس سے ناواقف تھے۔

”میں نے سب سے پہلے خود اپنے گھر سے تبدیلی کی ابتداء کی اور شکر ہے ہم اس میں کامیاب ہوگئے۔ اکثر لوگ ان چھوٹی چھوٹی چیزوں کا خیال نہیں رکھتے جس کی وجہ سے معاشرے میں  سنجیدہ مسائل جنم لیتے ہیں۔“

محکمہ صحت خیبرپختونخوا اور بین الاقوامی ادارے رٹگرز کے تعاون سے شعور اُجاگر کرنے کے علاوہ ضلع نوشہرہ ، ہری پوراورکوہاٹ کے مکینوں کو میڈ ان میڈ فار فارم کے استعمال اور پرُ کرنے کے حوالے سے بھی تربیت دی گئی، جس میں متصلہ علاقے کے ناظمین، کونسلر ز، لیڈی ہیلتھ ورکرز اور نکاح رجسٹراروں نے حصہ لیا۔ ان تربیتی پروگراموں میں شرکاء کو سال 2013 اور 2014 کے دوران وفات پانے والی ان تمام خواتین کا ریکارڈ جمع کرنے کا کہا گیا جن کی عمریں 12 سے 50 سال تک تھیں ۔

اس سروے سے نہ صرف خواتین کی اموات کی وجوہات سامنے آجائیں گی بلکہ متعلقہ محکموں کو منصوبہ بندی اور قانون سازی میں بھی کافی مدد ملے گی۔

کوہاٹ شہر کے علاقے بابری بانڈہ میں علاقے کے منتخب نمائندوں کومیڈ ان میڈ فار فارم پُر کرنے کی تربیت دینے والے جنید خان کا کہنا ہے کہ پہلے مرحلے میں شرکاء کی مدد سے معلوماتی فہرستوں کو پُر کیا جاتا ہے، جن میں مکمل معلومات حاصل کی جاتی ہیں۔ مثلا عورت کس وجہ سے وفات پاگئی ۔ کیا اس کی موت زچگی کے دوران ہوئی، وغیرہ۔

جنید خان کا آئی پی آر کے ساتھ بات چیت کے دوران کہنا تھا کہ پہلے مرحلے کے بعد ان کی بنائی گئی لیڈی ہیلتھ سپروائزرز پر مشتمل ایک دوسری ٹیم اکھٹی کی گئی معلومات کی پڑتال کرتی ہے۔  معلومات کی پڑتال کے دوارن اس ٹیم کے نمائندے گھر گھر جاکر ان معلومات کی دوطرفہ پڑتال یا کراس چیکنگ کرتے ہیں۔

کوہاٹ ہی سے تعلق رکھنے والے چالیس سالہ واجد خان سمجھتے ہیں کہ مستقبل میں میڈ ان میڈ فار فارم سے جمع کردہ اعداد کی وجہ سے حکومتی اداروں کو خواتین کی اموات کی وجوہات کے بارے میں مکمل معلومات حاصل ہوجائیں گی اور ان کی روک تھام کے لئے مثبت حکمت عملی ترتیب دی جاسکے گی۔

واجد خان کے بقول ان کے علاقے کی اکثریت زچگی اور خواتین کی پوشیدہ بیماریوں کی وجہ سے ہلاکت کے بارے میں بات کرنے سے کتراتے ہیں- تاہم ان کا کہنا ہے کہ یہ سروے ان کے علاقے کی بھلائی کے لئے ہے اور اس کو جاری رہنا چاہئے۔

از جواد یوسفزئی

SHARE
Previous articleImproper nutrition leads to mental illnesses
Next articleKha Jwand — Episode 56
Danish Baber works as Media Technical adviser with IPR. He has done M.Phil in Media studies, and also works as a freelancer with Deutsche Welle (Germany) and Pakistan Forward (USA). He started his journalistic career in 2008 as Radio Journalist, in short spin of time he gained experience in all four fields of Journalism (Print, Radio, TV and Photography). Danish has expertise in Audio and Video production and beside this he has also wrote and produced more than three hundreds Radio Drams in Pashtu and Urdu languages.

NO COMMENTS

LEAVE A REPLY