ذچگی کے دوران میں پیچیدگیاں

0
644

عورتوں میں حمل ٹہرنے کا پتا چلنا ایک لاثانی احساس ہے باہرچلتے پھرتے ہوئے آپ کو یوں لگ رہا ہوتا ہے۔ جیسے آپ اپنے اندر ایک شاندار راز چھپائے جارہے ہوں۔پاکستان میں ایک طرف اگر سماجی علاقائی اور بین الاقوامی تنظیموں کی کاوشوں نے عورتوں اور بچوں کی شرح اموات میں خاطر خواہ کمی لائی ہے تو دوسری طرف بہت سے معاشی اور معاشرتی مسائل نے ان شرح اموات کی شرح میں کمی کے بجائے زیادہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔پاکستا ن میں ہر سال تقریباً پانچ ملین خواتین حاملہ ہوجاتی ہیں۔ جس میں سے %۶۵ کی زچگی گھروں میں ہوجاتی ہیں۔ زچگی کے دوران عورتوں کی اموات کی شرح شہری علاقوں میں ایک لاکھ میں سے۱۷۵ دیہاتی علاقوں میں ۳۱۹ اور خیبرپختونخوا میں یہ شرح ۲۷۵ریکارڈ کی گئی ہے۔ خیبرپختونخوا میں زچگی کے دوران اموات کی زیادہ شرح کے بہت سے اسباب ہیں۔ جس میں غیر تربیت یافتہ دائیاں ، وقت پہ نہ پہنچنا ، طبی سہولتوں کا فقدان اور تعلیم کی کمی ہے۔

پاکستان میں عورتوں کی زچگی کے دوران اموات کی بہت سی وجوہات ہیں۔ جن میں خون کا بہہ جانا بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔کیونکہ زچگی کے دوران خون کے زیادہ بہہ جانے سے ہر گھنٹے میں تین خواتین موت کے منہ میں چلی جاتی ہیں۔ اس کی مثال حال ہی میں پشاور کے علاقے میں واقع محلہ سربانان میں مقیم تنزیلہ نامی خاتون کے ساتھ ہواتھا۔جوکہ زیاد ہ خون بہنے کی وجہ سے اگلے ہی دن انتقال کرگئی۔ تنزیلہ اپنی تیسری بیٹی کی ولادت میں اپنے رشتہ داروں کو خون کے آنسو بہانے پر مجبور کرکے اپنے پیچھے ایسے را ز چھپا کے چلی گئی جسے محسوس کرنے کیلئے اگر کوئی ہے تو وہ نہ تو میں ہوں نہ ان کی فیملی اور نہ آپ۔ اگر کوئی ہے تو وہ خودتھی لیکن اس کی موت نے ہمیں یہ راز چھپانے سے محروم کردیا۔

تنزیلہ کی شادی 8 برس پہلے اپنے خالہ ذادبھائی کے ساتھ ہوئی تھی۔ اپنی ازدواجی زندگی میں کافی خوش تھی اور شادی کے 8سالوں میں تنزیلہ نے دو بیٹیوں کو جنم دیا تھا۔ لیکن پختون سماج میں ہوتے ہوئے بیٹیوں پر بیٹوں کی فوقیت نے تنزیلہ کو بھی بیٹے کی خواہش میں موت کے منہ میں دھکیل دیا۔ لیکن وو اپنے پیچھے ایسے حل طلب مسایل چھوڑگییں جن کا تدارک ہم سب کی زمہ داری ہے کہ کل کوئی دوسری تنزیلہ ایک نئی زندگی کو جنم دینے میں اپنی زندگی نہ گنوا بیٹھے ۔ تنزیلہ کی دونوں بیٹیاں محلے میں رہائش پذیر اور لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں ملازمت کرتی ہوی دائی کے ہاں ہوئی تھی۔ بیٹے کی خواہش تھی تو تنزیلہ اس دفعہ اپنے دوسرے ٹرائیمسٹرکے بعد ایک اچھے ڈاکٹر سے معائنہ کے لئے قریبی میڈیکل ڈاکٹر کے پاس چلی گئی۔

تو ڈاکڑنے الٹراساونڈ کرواکر ایک دفعہ پھر بیٹی ہونے کااعتراف کرلیااور ساتھ میں یہ بھی بتایا کہ زچگی میں پیچیدگیوں کا بھی خدشہ ہے۔ تو اس دفعہ بچہ آپریشن سے ہوگا ۔ لیکن تنریلہ ایک دفعہ پھر بیٹی کے غم میں الجھی ہوئی اس کی طرف زیادہ توجہ نہ دیتی ہوئی گھر چلی گئی۔ تنزیلہ اکثر غم سے نڈھال اور سوچوں میں گم ہوا کرتی تھی۔ جیسے جیسے وقت قریب آتا گیا ، حسب معمول تنزیلہ محلہ میں دائی کے پاس جاتی اور اپنا معائنہ کرواتی تھی۔ جب بچے کی پیدائش کا وقت آپہنچا تو تنزیلہ دائی کے پاس زچگی کروانے چلی گئی۔
یہ معلوم ہوتے ہوئے کہ ڈاکٹر نے زچگی میں پیچیدگیا ں ہونے کی وجہ سے آپریشن کا کہا تھا۔ لیکن وہ یہ بات اپنے ساتھ چھپاتی ہوئی دائی کے پاس چلی گئی۔ دائی بھی اتنی تعلیم یافتہ اور تربیت یافتہ نہیں تھی کہ کیس کو سمجھ سکتی ۔ اور انتھک کوششوں سے زچگی کرواپایٰ۔ لیکن خون کا بہاؤ کافی تیز تھا۔ کچھ ہی وقت میں خون کی رفتار میں کمی کے بعد تنزیلہ اپنے گھر منتقل ہوگئی ۔ اگلی صبح تنریلہ کی طبیعت بگڑ گئی۔ تو تنزیلہ کو کوہاٹ روڈ پر میڈیکل ہسپتال لے جایا گیا لیکن اب بہت دیر ہوچکی تھی۔ اس کے جسم سے کافی خون نکل چکا تھا ۔ ہسپتال میں مریض کی حالت دیکھ کر ڈاکٹرنے اسے لینے سے انکار کردیا تو تنزیلہ کو لیڈی ریڈنگ ہسپتال لایا گیاجہاں اسے بہت سے اصرار کے بعد داخل کروایاگیا۔ لیکن اب بہت دیر ہوچکی تھی۔ ڈاکٹرنے خون کے تین بیگ لگوائیے لیکن اس کے ہوگیا اور وہ انتقال کرگئی Brain Haemorrhage۔خون کا بہاو نہیں رُکا اور آخر میں تنزیلہ کو۔

تنزیلہ کی موت ایک حادثہ نہیں بلکہ ایک قتل تھا جس کو بہت سے لوگوں نے کروایا جس میں تنزیلہ خود بھی شامل تھی۔ جوکہ یہ جانتی تھی کہ زچگی آپریشن سے کروانی پڑے گی لیکن اس نے ایسا کیوں نہیں کیا؟ اس کے پیچھے کونسے محرکات ہیں ۔ یہ ہم میں سے کسی کو پتہ نہیں ۔ لیکن یہ واضح ہے کہ ایک صحت مند اور تعلیم یافتہ معاشرے کے پیچھے ایک صحت مند اور تعلیم یافتہ ماں کا ہاتھ ضرور ہوتا ہے۔ ریاست کی یہ ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اپنے شہر یوں کے حقوق اور ان کو بنیادی سہولیات زندگی مہیہ کرے ۔ موجودہ حکومت کے ساتھ ساتھ بہت سی سماجی علاقائی اور بین الاقوامی تنظیموں کی کوششوں نے صوبے بھر کے ۲۶ اضلاع میں ۵۶ MNCHسنٹر زکا افتتاح کرایا ہے۔ یہ اب ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ دوران حمل ماں کی صحت کا خیال رکھنے کے ساتھ ساتھ تربیت یافتہ لیڈی ڈاکٹرز سے رجوع کریں جو وقت آنے پر اسے موزوں طبی سہولیات مہیہ کریں۔

NO COMMENTS

LEAVE A REPLY