اسقاطِ حمل

0
3466

حمل ضائع کرنے کا عمل جہاں ایک طرف ایک تکلیف دہ عمل ہے وہاں اسکی وجہ سے ماں کو مستقبل میں متعدد بیماریوں اور نقصانات کا سامنا بھی ہو سکتا ہے

زچہ بچہ اور خواتین کے خصوصی امراض میں پینتیس  سالہ تجربہ رکھنے والی پشاور کی ڈاکٹر مریم بی بی کا کہنا ہے کہ ابورشن یعنی حمل ضائع کرنے کے کیسز میں پچھلے چند برسوں کے دوران پچاس  فیصد تک کمی آئی ہے۔ جس کی وجوہات میں اگاہی کا بڑھ جانا، انجیکشنزاور پیلز یا کنڈوم کا استعمال سب سے نمایاں ہیں۔

  آئی پی آر کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو کے دوران ڈاکٹر مریم کا کہنا تھا کہ اگر ایک طرف حمل کا ضائع کرنا دینی اور دنیاوی لحاظ سے جرم ہے تو دوسری جانب اس سے خواتین کو انتہائی پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔  ان کا کہنا ہے کہ حمل ضائع کرنا ایک انسان کو دنیا میں آنے سے پہلے قتل کردینے کے مترادف ہے۔

ابورشن کی پیچیدگیوں کے حوالے سے ڈاکٹر مریم کا کہنا ہے کہ اکثر نا تجربہ کار دائی یا نرسز سے حمل ضائع کرایا جاتا ہے جس کے دوران استعمال کئے جانے والے سٹک سے یوٹرس پھٹ جاتا ہے اور اکثر اوقات ابورشن کرنے والی خاتون کا بچنا مشکل ہو جاتا ہے۔ دوسری جانب اس سے پیلوس اور یوٹرس میں مختلف قسم کے انفکشنز ہو جاتے ہیں جو کہ اندر کی طرف پھیل جاتے ہیں  جس کی وجہ سے خواتین دوسرا بچہ پیدا کرنے کے قابل ہی نہیں رہتیں اور اسی طرح  ابورشن سے مینسز یعنی حیض  میں بھی خرابی آجا تی ہے ۔ اکثر اوقات یا تو مینسز آنا بلکل بند ہو جاتے ہیں اور یا بے انتہا زیادہ آنا شروع ہو جاتے ہیں،  جس سے خاتون یا تو بہت زیادہ موٹی ہو جاتی ہے اور یا بلکل ہڈیوں کا ڈھانچہ بن جاتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایسا بہت کم  دیکھا ہے کہ ابورشن کے بعد خاتون مکمل طور پر ٹھیک ہو گئی ہو۔

ویسے تو طبی لحاظ سے ابورشن کرنے کی بہت سی وجوہات ہو سکتی ہیں لیکن ڈاکٹر مریم کا کہنا ہے کہ معاشرتی اعتبار سے بھی ابورشن کی کئی وجوہات ہیں جس میں خاندان کی جانب سے لڑکیاں پیدا ہونے کا ڈر اور لڑکے کی پیدائش کی خواہش ہے، کیونکہ ہمارے معاشرے میں اکثر خاندانوں کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کے یہاں لڑکا پیدا ہو۔ تاہم الٹراساونڈ اور ٹیسٹ سے جب پتہ چلتا ہے کہ لڑکی پیدا ہوگی تو پھر حاملہ کو ابورشن کرانے پر مجبور کردیا جاتا ہے۔ دوسری جانب ذیادہ بچوں کا افورڈ نہ کر سکنا اور بچوں کا سنبھال نہ سکنا اور حمل کے دوران خرابی صحت کی وجہ سے بھی اکثر حاملہ کو خاندان کی جانب سے حمل ضائع کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے جبکہ اکثر خواتین کی خود بھی خواہش ہوتی ہے کہ وہ زیادہ بچے نہ جنیں۔

  ڈاکٹر مریم کا کہنا ہے کہ اگر مریضہ کو ذیابیطس ، امراض قلب، گردوں یا جگر میں تکلیف ہو تو اس صورت میں حمل کا ضائع کرنا ہی بہتر ہے کیونکہ اس سے ماں او بچے دونوں کی ذندگی کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں تاہم ان صورتوں میں بھی اچھے ہسپتال اور جدید طریقہ ہائے علاج سے امراض کے علاج کے ساتھ ساتھ ڈیلیوری بھی ممکن ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر با امر مجبوری حمل ضائع کرنا ناگزیر ہو تو اس صورت میں حمل کے پہلے ہی مہینے ابورشن کرنا چاہییے جبکہ تیسرے مہینے کے بعد حمل ضائع کرنے سے مذکورہ بالا پیچیدگیوں سے بچنا ناممکن ہو جاتا ہے۔

ابورشن سے بچنے کے طریقوں کے بارے میں ڈاکٹر مریم کا کہنا ہے کہ سب سے بہتر اور آسان طریقہ  باہر ڈسچارج ہونا ، کنڈوم کا استعمال اور بچہ دانی کا ہمیشہ کےلئے سٹیچ کرنا ہے تاہم جدید طبی تحقیق اور ترقی کے بعد آجکل مختلف اقسام کے انجکشنز اور پیلز مارکیٹ میں دستیاب ہیں جس کے ذریعے ابورشن جیسے جان لیوا عمل سے باآسانی بچا جا سکتا ہے اور یہی وہ وجوہات ہیں جن کی بنا پر ابورشن کے کیسز میں بہت زیادہ کمی آئی ہے۔

NO COMMENTS

LEAVE A REPLY