تھیلیسیمیا

0
352

 اقوام متحدہ کے سال دو ہزار تیرہ کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ہر سال پانچ ہزار بچے تھیلیسیمیا مرض  کا شکار ہوتے ہیں- ڈاکٹروں کے مطابق تھیلیسیمیا مرض خاندان میں شادی کرنے کی وجہ سے والدین سے بچوں میں منتقل ہوجاتا ہے-

پاکستانی معاشرے کے ہر ایک نارمل بچے کی طرح کلاس فور میں پڑھنے والی نایاب بھی بڑی ہو کرڈاکٹر بننا چاہتی ہے۔ نو سالہ نایاب کے ساتھ میری ملاقات پشاور میں قائم مفت خون فراہم کرنے والے  فلاحی ادارےحمزہ فاونڈیشن میں اس وقت ہوئی جب وہ زندہ رہنے کےلئے نیا خون چڑھانے اپنی والدہ شمیم کے ہمراہ آئی تھی۔ نایاب کو گزشتہ کئی سالوں سے خون کی کمی کا مرض لاحق ہے او ہر گزرتے دن کے ساتھ اس کے جسم میں خون کم ہوتا جاتا ہے اور وہ ڈاکٹر کے مشورے کے مطابق مہینے میں ایک بار نئے خون کےلئے یہاں اپنی ماں کے ہمراہ ہی آتی ہے کیونکہ اس کا والد ایک مزدور ہے جو ایک دن کی چھٹی بھی افورڈ نہیں کرسکتا۔

 نایاب کا کہنا ہے کہ اس کے والدین غربت کی وجہ سے اس کے علاج کے اخراجات تو برداشت نہیں کر سکتے تاہم اسے یقین ہے کہ ایک دن وہ ٹھیک ہو جائیگی۔

نایاب کی والدہ کا کہنا ہے کہ ان کے پانچ بچوں میں سے ایک اڑھائی سالہ بیٹا خون کی کمی کی وجہ سے وفات پا چکا ہے جبکہ نایاب کے علاوہ ان کا ایک دوسرہ بچہ بھی خون کی کمی کا شکار ہے۔

حمزہ فاونڈیشن کے میڈیکل آفیسر ڈاکٹر بلال کا کہنا ہے کہ نایاب کو تھیلیسیمیا کا عارضہ لاحق ہے۔ اور نہ صرف نایاب بلکہ پاکستان میں ہر سال پانچ ہزار سے زائد بچے اس موزی مرض کا شکار ہوتے ہیں اور اس وقت ملک میں تھیلیسیمیا کے شکار لاکھوں بچے موجود ہیں۔  تھیلیسمیا خون کی ایک ایسی بیماری ہے جو کہ خاندان میں شادی کرنے اور والدین میں سے دونوں یا کسی ایک میں اس کی موجودگی سے بچوں میں منتقل ہو جاتی ہے۔

ڈاکٹر بلا ل کا کہنا ہے کہ عام طور تھیلیسیمیا کو ایک نا قابل علاج مرض تصور کیا جاتا ہے تاہم بون میرو ٹرانسپلانٹ یعنی ہڈی کے گودے کی تبدیلی سے اس مرض پر قابو پایا جا سکتا ہےلیکن یہ طریقہ علاج ایک اوسط آمدن رکھنے والے خاندان کےلئے تقریبا ناممکن ہے۔

 ان کا کہنا ہے کہ اس بیماری کے دوران جہاں بدن میں تازہ خون نہیں بنتا وہیں پر اس سے متاثرہونے والے بچے کی نشونما عام بچوں جیسے نہیں ہوتی اور وہ ان کی طرح سرگرم زندگی نہیں گزار سکتا اور اس کے ساتھ اسے متعدد دیگر خطرناک بیماریوں کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ڈاکٹر بلال کا اس حوالے سے کہنا ہےکہ حاملہ خاتون کو پیدائش سے قبل ٹسٹ کروانا چاہیئے اور اگر انہیں پتا ہو کہ ان کے دیگر بچے بھی خون کی کمی کا شکار ہیں تو سب سے اچھا طریقہ یہ ہے کہ وہ اپنا حمل ضائع کر دیں۔ کیو نکہ اس طرح وہ نہ صرف ایک پیدائشی معذور بچے کو جنم دینے سے بچ جائیگی بلکہ وہ ایک پورے خاندان کو تکالیف سے بچا سکتی ہے۔

تھیلیسیمیا ایک ایسا مرض ہے جس کا تدارک صرف احتیاطی تدابیر سے ہی ممکن ہے۔ حمزہ فاونڈیشن کے ساتھ سینکڑوں کی تعداد میں نایاب جیسے بچے رجسٹرڈ ہیں جن کی آنکھوں میں بھی یہی سپنے ہونگے کہ ایک دن وہ اس مرض سے چھٹکارا حاصل کر سکیں گے۔

NO COMMENTS

LEAVE A REPLY